یہ ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ ہر پاکستانی ملک چھوڑ کر بھاگ رہا ہے اور جن کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے وہ خود بھی تیار ہیں، ریٹائر ہونے کے بعد ملک چھوڑ دیتے ہیں، ان میں بریگیڈیر، کرنل، جنرل سب ہی شامل ہیں۔ کاش ایسا نہ ہوتا یہ لوگ شرافت ایمانداری اور نیک نیتی سے ملک میں ملازمت کرتے رہتے، ہم نے جان کرکے نہیں لکھا ”خدمت” اس لئے کہ کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے اور یہ خود کو ان لوگوں سے اہم جانتے ہیں جو دوسری ملازمتیں کر رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب ہم فوج اور جنرلز کی بے حد عزت کرتے تھے یاد کریں ایوب خان کا دور اور 1965 کی جنگ۔ آج کے وقت میں ایک بات کہنے کو دل چاہتا ہے ان سب کرتا دھرتا لوگوں سے وہ بات ہے ”منہ پر لگی دھول کی بجائے، شیشے کی دھول صاف مت کرو اس پر تھوڑی بہت خاک ہوگی لیکن ان کے چہروں کو دیکھ لو اندر کی خاک صاف نظر آتی ہے کسی کی خوبصورتی اور بدصورتی خود کے کرموں سے ہوتی ہے اچھا کام کرو گے تو بدصورت چہرہ خوبصورت لگے گا، طارق بن زیادہ گورا نہیں تھا مراکش کا بربرقوم سے تھا جو سیاہ فام ہوتے ہیں منڈیلا بھی کالا تھا اور ڈاکٹر مارٹن لوتھرکنگ جونیئر سیاہ فام تھا۔ مالکم ایکس، محمد علی باکسر سب سیاہ فام افریقن ہے لیکن یہ تمام دنیا بھر میں خوبصورت ہیں۔ ہمارے حکومت پر قابض لوگ، عاصم منیر اور دوسرے زرداری وغیرہ کیسے لگتے ہیں یہ ان کے کرتوت ہیں امریکی سیکرٹری خارجہ نے بیان دیا کہ ”پاکستان خود اپنی فوج غزہ بھیجنے کی پیش کش کر رہا ہے۔ عاصم منیر کا کہنا ہے کہ یہ اللہ کی فوج ہے اسرائیل سے لڑنے کی بجائے مظلوم فلسطینیوں کی تنظیم حماس کو غیر مسلحہ کرنے کے لئے جارہی ہے۔ ہمارا سوال ہے عاصم منیر سے یہ اللہ کی فوج ہے یا ابلیس کی۔ دو سال سے خیال نہیں آیا اب تک جب اسرائیل نے ستر ہزار فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا بے دردی اور سفاکی سے۔ اور آج فیلڈ مارشل کو اچانک یہ خیال کیسے آگیا، یہ کہنے میں شرم آتی ہے کہ یہ سارا ڈرامہ اور اس کا اسکرپٹ امریکہ لکھ رہا ہے اور اس پر عمل کرنا ہر حالت میں ان پر فرض ہے۔”حکم کی تعمیل ہو” اور ہوگی۔ عاصم منیر کو یہ بھی فخر ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے انسان ہیں لیکن کس کے لئے سب جانتے ہیں پچھلے جتنے بھی جنرل آئے سب کے سب امریکہ بہادر کے لائے ہوئے تھے۔ ایک طرف امریکہ ڈیموکریسی اور میرٹ کی بات کرتا ہے اور دوسری جانب امریکہ کا عمل دیکھ لیں۔ کیا یہ سارا کام صدور کرتا ہے ہمارا جواب ہوگا نہیں صدر کو لانے والے کرتے ہیں اور لانے والے کون ہیں وہ ایک جتھا ہے جس کا نام AIPAC ہے، (امریکن اسرائیل پبلک افیر کمیٹی) صدر ٹرمپ کو لانے سے پہلے۔ گارنٹی لی گئی تھی کہ وہ اُن کی بنیگے اور آج غزہ میں اور دوسرے ملکوں پر جو کچھ کیا جارہا ہے اسرائیل کی نظر میں جواز ہے اب نائیجیریا میں کرسچین کو مارا جارہا ہے تفصیل معلوم نہیں اور وینزویلا کے تین جہاز کو قبضے میں کرنے کا عمل حیران اور پریشان کن باتیں ہیں جو عام امریکن کی سمجھ سے باہر ہیں۔ صدر ٹرمپ کہے جارہے ہیں مہنگائی ختم ہوگئی ہے دوسری طرف TARIFF لگا کر مہنگائی ڈبل کی جارہی ہے شاید صدر ٹرمپ کو علم نہیں ابھی تک عوام کی دلچسپی اور مطلب کی کوئی بات نہیں کی ہے نومبر میں جو اعلان کیا گیا تھا کہTARIFF کے پیسوں میں سے ہر امریکن کو دو ہزار ڈالر ملینگے اور آج اس کا کوئی ذکر نہیں۔ نیا سال 2026 مبارک ہو، مگر کیسے مبارک ہو جب امریکن اپنے کریڈٹ کارڈ کے بل دیکھینگے۔ اوسط امریکن سات ہزار700 ڈالر کا مقروض ہے کریڈٹ کارڈ پر اس طرح کریڈٹ کارڈ 1.23 DEBT ٹریلین چڑھ چکا ہے۔ 1975 میں یہ قرض چھ سے سات سو ڈالر تھا۔ اندازہ کرلیں۔ زندگی کو مہنگا کرنے کے نئے نئے طریقے لائے جارہے ہیں ابھی ٹہریں جس تیزی سے ملک کے کھرب پتی مہنگائی لا رہے ہیں اس میں A-I سب سے اوپر ہوگا کہ لاکھوں بڑی بڑی ملازمتیں ختم ہوجائینگی اور مزید لوگ ویلفیئر پر آجائینگے۔ ایک عجیب کھچڑی پک رہی ہے کہ امریکن خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں انجام کیا ہوگا خدا جانے۔
انٹرنیٹ نے بہت سی چیزوں پر اثر ڈالا ہے کہ آج کا نسان لکھنے پڑھنے سے دور ہوگیا ہے انٹرنیٹ پر ہر بات ہوجاتی ہے کس کو خط لکھنے کی ضرورت نہیں اور اس کے نتیجے میں ڈنمارک کی حکومت نے قدم اٹھایا ہے کہ ڈاک کے محکمے کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے اور شاید جلد ہی امریکہ اور دوسرے مالک بھی ایسا کرنے جارہے ہیں ڈاک کی سروس صرف پارسل تک محدود ہوجائیگی کہ ہر سال امریکہ میں دوبارہ ڈاک کے ٹکٹوں کی قیمت بڑھتے بڑھتے 69 سینٹ ہوچکی ہے خیال رہے فیڈرل گورنمنٹ اس ادارے کو مدد نہیں کرتی شاید یہ واحد بڑا ملک ہے۔ آج کل صدر پاکستان( خود ساختہ) گائے کی طرح کھا پی کر جگا لی کر رہے ہیں۔ ادھر پنجاب میں نوازشریف کے اپنے خودمختار بھائی اور مریم نواز اور شہبازشریف بڑی تندہی سے اس کام میں مصروف ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ خاندان پاکستان پر50 سال حکمرانی کرتے رہے ہیں۔اور انہوں نے کم وبیش 9 بار حکومتیں کی ہیں ضیاء الحق کے بٹھائے مہرے ہیں یہ دونوں خاندان کھربوں پتی بن چکے ہیں۔ دونوں نے زرداری اور نوازشریف نے اپنا لوٹا مال دوسرے ملکوں میں خرچ کیا ہے ایک نے سرے محل خریدا تھا اور سوئزرلینڈ کے بنکوں میں لوٹا ہوا روپیہ ڈالا تھا دوسرے نے اپنے دونوں نکمے بیٹوں کو لندن میں جائیدادیں دلوا کر مالک بنا دیا تھا۔ ہر ملک میں کوئی بھی ایسے جرائم میں پکڑا جاتا ہے اُسے سزا ہوتی ہے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں یہ چور لوٹ مار مچا رہے ہیں اور پکڑنے والا کوئی نہیں۔ نظام میں تبدیلی اپنے مطابق کی ہے اور جنرل عاصم منیر انکے ساتھ مل کر آئندہ تک اپنے موجودہ اور ہونے والے جرائم اور ڈاکوئوں پر قانون کی معافی کرالی ہے کہ انکے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔ ان کی اولادیں اب مستقبل میں حکمرانی کا خواب دیکھ رہی ہیں اور عوام دنیا بھر میں مقروض ہوچکے ہیں۔ ملک کی تباہی میں ان دو چوروں کا ہاتھ ہے انہوں نے ہی آرمی کو بھی اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے کہ وہ ڈکار بھی نہیں لیتے ان سے چھٹکارا پانے کے لئے چہرے نہیں بلکہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔
زرداری بین الاقوامی مسٹر 10% اور اب50% کل میڈیا پر بھونک رہا تھا عمران خان کے لئے ”ایک بیوقوف آدمی نے ساڑھے چار سال (ایک سال بڑھا کر بول رہا ہے) میں ساری دنیا سے ہمارے تعلقات خراب کردیئے ہیں۔ اور سندھ کے غلامانہ ذہنیت کے عوام سن رہے ہیں۔ مولوی خاموش بیٹھے ہیں ہندوستان کے ایک مفتی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈالی تھی” پاکستان ایک غیر اسلامی ملک ہے” عاصم منیر کے لوگوں کو قرآن سنانے سے یہ ملک اسلامی نہیں بنتا۔ اگر عمل شیطانوں سے بدتر ہو جو ہے!
٭٭٭٭٭٭














