”وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورہ لاہور ”
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ لاہور عوامی اور سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اْن کے پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران دھکم پیل اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سخت زبان کے استعمال اور جواب میں پنجاب حکومت کے بھی سخت ردعمل کی وجہ سے سیاسی تلخی مزید بڑھ گئی ہے۔اس دوران خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی اور صحافیوں کے مابین ہونے والے مکالمے پر بھی سوشل میڈیا پر تنقید ہو رہی ہے۔سہیل آفریدی کارکنوں کے ہمراہ جمعے کو بذریعہ موٹروے لاہور پہنچے تھے، جہاں ٹھوکر نیاز بیگ پر تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے اْن کا استقبال کیا۔دورے کے آغاز پر ہی سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت نے موٹروے کے مختلف انٹرچینجز پر تحریک انصاف کے کارکنوں کو روکا جبکہ لاہور آمد پر بھی قافلے میں شامل گاڑیوں کو روکا گیا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے اپنے حالیہ دورہ لاہور کے دوران پیش آنے والے واقعات پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو احتجاجی مراسلہ بھی بھیج دیا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دورے کے دوران معاملات کو جس انداز میں نمٹایا گیا وہ کوتاہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا عمل تھا۔ سہیل آفریدی کے مطابق یہ انتظامی خامی یا حادثہ نہیں بلکہ آئینی عہدے اور بین الصوبائی عزت کو مجروح کرنے کی کوشش تھی۔انھوں نے کہا کہ وہ 40 ملین عوام کے نمائندے کی حیثیت سے لاہور گئے تھے لیکن ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی عوامی نمائندے کے شایانِ شان نہ تھا۔ ان کے مطابق مارکیٹیں اور عوامی مقامات بند کیے گئے جس سے لاہور کے شہریوں کو تکلیف پہنچی، حتیٰ کہ موٹروے ریسٹ ایریا بھی بند رکھا گیا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے الزام لگایا کہ ان کے دورے کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور اسے منشیات سمگلنگ سے جوڑا گیا، جو ان کے بقول پنجاب حکومت کی نگرانی میں ہوا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی کو آخر لاہور آنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے نہ ہی کوئی پارٹی اجلاس تھا، نہ دھرنا تھا اور نہ ہی احتجاج تھا ،نومنتخب وزیراعلیٰ کو صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح کے منصوبوں پر غور کرنا چاہئے ناکہ دیگر صوبوں کے معاملات میں دخل اندازی کی جائے ، وہاں کے لوگوں کے معمولات متاثر کیے جائیں ، ایسا کرنے سے پنجاب کے لوگوں کی نفرت ان سے متعلق مزید بڑھی ہے ، پنجاب کے لوگ پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہیں ، اس دوران کاروبار کی بندش ان کے لیے بہت تکلیف دہ امر ہے ، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ افہام تفہیم،مذاکرات کی راہ اپنا کر تحریک انصاف اپنے مسائل کو حل کرے اور سب سے بڑھ کر عمران خان کی رہائی کاو احد راستہ بھی مذاکرات ہی ہیں، سہیل آفریدی اگر عمران خان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیںتو ان کو یہ راہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کی متواتر حکومتی پیشکشیں عمران خان اور انکے ساتھی اگر اس وجہ سے مسترد کررہے ہیں کہ انکے سیاسی حریفوں کا اقتدار فارم سینتالیس کا نتیجہ ہے تو انھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خود انکا اپنا دور حکومت بھی ا?رٹی ایس بٹھائے جانے کا مرہون منت تھا۔ اور اگر مذاکرات سے انکار کا سبب انکے مطابق یہ ہے کہ بے بنیاد مقدمات کے ذریعے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو اپنے دور حکمرانی میں اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ وہ بھی یہی سلوک کرتے رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ حکمرانوں کیساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کی کوئی اخلاقی اور منطقی بنیاد موجود نہیں۔ بے لاگ تجزیہ کیا جائے تو یہ ماننا ہوگا کہ ہمارے ملک میں حکمرانی کی تاریخ کا بیشتر حصہ منصفانہ جواز سے محروم حکومتوں ہی پر مشتمل رہا ہے۔ ساڑھے تین عشروں پر محیط فوجی ا?مریتوں کا تو ا?ئین و جمہوریت کے منافی ہونا ایک کھلی حقیقت ہے ہی لیکن تقریباً تمام منتخب حکومتیں بھی مشتبہ، غیر شفاف اور طاقتوروں کی مداخلت سے ا?لودہ انتخابی عمل ہی کا نتیجہ رہی ہیں۔اس لیے ایک مداخلت زدہ الیکشن کے نتیجے میں اقتدار میں ا?نیوالے سابقہ حکمرانوں کا موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے اس بنیاد پر انکار کہ وہ شفاف انتخابات کے نتیجے میں قائم نہیں ہوئی، کوئی وزن نہیں رکھتا۔ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے علیمہ خان اور شیخ وقاص اکرم کے بعد تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ”حکومت سے چوری تسلیم کیے بغیر مذاکرات ممکن نہیں” تاہم اس مو?قف کے جواب میں موجودہ حکمراں کہہ سکتے ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت بھی تسلیم کرے کہ 2014ء میں مسلم لیگ نون کی حکومت گرانے کیلئے فوج میں موجود اپنے سرپرستوں کی حمایت کیساتھ تین ماہ کا طویل دھرنا ایک مجرمانہ عمل تھا۔ عدالتی شخصیات اور طاقتور حلقوں کیساتھ ملی بھگت کے ذریعے نواز شریف کی سیاسی عمل سے بے دخلی شرمناک جمہوریت کشی تھی۔ 2018ء میں عمران خان کو اقتدار میں لانے کی خاطر انتخابی عمل سے پہلے، اسکے دوران اور اسکے بعد طاقتور حلقوں کی کھلی مداخلت آئین اور قانون کی سخت توہین اور پامالی تھی۔ پونے چار سالہ اقتدار کے دوران تمام کاروبارِ حکومت اور پارلیمان کی کارروائیوں کا طاقتورحلقوں میں موجود اپنے پروموٹرز کی دھونس اور دھمکیوں کے ذریعے چلایا جانا جمہوری عمل کے نام پر سنگین مذاق تھا۔اب 2026شروع ہونے کو ہے، تحریک انصاف کی قیادت کو چاہئے کہ وہ پرانی روش کو ترک کرتے ہوئے نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھے، سہیل آفریدی بھی مذاکرات کی راہ پر چلتے ہوئے ، پارٹی، بانی اور کارکنوں کے لیے بہتری کا راستہ نکالیں۔
٭٭٭













