یہ کیسا پاکستان ہے عوام کا یا آرمی کا؟

0
5
کامل احمر

یہی مغربی پاکستان تھا جہاں فوج ہی سیاست دان تھی جو کسی طرح بھی مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمٰن پر الزام تراشیاں کر رہی تھی کہ وہ ملک دشمن ہے، انڈیا سے ملا ہوا ہے، غدار ہے اور علیحدگی چاہتا ہے، جبکہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ 1970 میں ہونے والے انتخابات میں ایمانداری کا مظاہرہ ہوا تھا جس میں مجیب الرحمٰن نے167 اور پیپلز پارٹی کے بھٹو نے 18 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ نتیجے میں مجیب الرحمٰن کو پاکستان کا وزیر اعظم ہونا تھا لیکن ملٹری اور بھٹو نے مل کر فیصلہ کیا کہ مجیب کو وزیر اعظم نہیں بننے دینا ہے، جس کے بعد مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی سے بدترین صورتحال پیدا کر دی گئی۔ اس خانہ جنگی کے دوران آرمی کے خلاف بنگلہ دیشی مکتی باہنی کی شکل میں کھڑے ہو گئے اور انڈیا کی مدد سے 93ہزار فوجی نے ہتھیار ڈال دئیے۔
بلوچستان میں ماہ رنگ بلوچ کے ایک پولیس والے کے ہجوم میں گرنے سے واقع ہونے والی موت پر انہیں قاتل قرار دیا گیا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس عمل کے بعد بلوچستان میں ملٹری کے خلاف عوام کو جگایا گیا اور چیلنج کیا گیا کہ بلوچوں کو اغوا کر کے ان کی لاشیں واپس کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر سے یہی کہا جائے گا کہ اس سیاست میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ حکومت جو جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں ہے، پاکستان کو مزید ٹکڑے کرنے کے درپے ہے اور اس وقت بلوچ اپنے بنیادی حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ماضی میں جنرل ایوب خان نے مشرقی پاکستان کو اپنا بنایا تھا مگر بعد میں انہیں ایک ایسا محکمہ سونپ دیا گیا جس نے چھ ماہ میں کورنگی کو خونی بنا دیا۔ اسی طرح جنرل سرفراز کے دور میں بھی بلوچوں کو اپنا بنایا گیا تھا اور بعد میں پراسرار طور پر ان کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا۔
ماہ رنگ بلوچ اور ڈاکٹر کو عمر قید سنا کر عاصم منیر خوش ہو سکتے ہیں لیکن آرمی جنرل سیاسی طور پر ڈفر ہیں اور باہر آ کر ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس کے پیچھے امریکہ ان کے ہوش و حواس پر سوار ہے اور یہ سب ایک ڈیل کا نتیجہ ہے کیونکہ جب بلوچوں کو دیوار سے لگایا جائے گا تو ان کے تمام وسائل پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہ رنگ بلوچ کو پچھلے سال TIME میگزین نے ٠٠١ بہترین شخصیات میں شمار کیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ کسی بے گناہ کا خون کرنا ظلم ہے اور اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ عوام سے ان کی آواز چھین لی جائے۔ جب لوگ حق، انصاف اور سچ کی بات نہ کر سکیں اور خوف اتنا بڑھ جائے کہ انسان اپنی تکلیف بیان نہ کر سکے تو یہ معاشرے کے لیے ایک دردناک لمحہ ہوتا ہے۔ یہی کچھ عمران خان کی پارٹی کے ساتھ کیا گیا ہے جہاں تشدد اور ظلم کا بازار گرم ہے۔
اس وقت آرمی کو ایک چیلنج درپیش ہے کیونکہ وہ عوام کو راستے کا پتھر سمجھ کر روند رہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر نے عمران خان کی پارٹی کے لیے گھروں سے ماں، بہنوں اور بیٹیوں کو اغوا کر کے جیل میں ڈالا ہے۔ انگریز نے انڈیا میں حصہ بانٹ کر دو سو سال حکومت کی تھی لیکن ساتھ ہی انہوں نے عوام کو وہ سب کچھ دیا جو وہ اپنے لیے کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان آرمی کے جنرلوں نے عوام کو دینے کے بجائے ان سے ان کی آزادی چھین لی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام سندھی، پنجابی اور پٹھان میں بٹے ہوئے ہیں۔ جنرل عاصم منیر کو معلوم ہونا چاہیے کہ بلوچ ایک مظلوم قوم ہے اور ماہ رنگ بلوچ کے لیے وہ اب بھی تیار ہیں کہ یہ دیکھا جائے کہ ہتھیار کیسے اٹھائے گئے ہیں کیونکہ وہ صرف پاکستان کا استحکام چاہتے ہیں اور شاید اب نظام بدلنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here