دنیا اس وقت جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ روس اور یوکرین کے علاوہ پاکستان اور افغانستان میں بھی جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے مسلسل جنگی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ خلیج میں ایک بار پھر جنگ شروع ہو چکی ہے اور امریکہ و ایران کی طرف سے ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی حساس تنصیبات پر حملے اور اس کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملوں نے جنگ کا بگل بجا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ ایران کو نقشے سے مٹانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکراتی ٹیم کے ساتھ چودہ نکاتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہے اور گزشتہ ہفتے مذاکرات کے دوران لبنان پر شدید حملوں نے تعطل پیدا کر دیا تھا جسے پاکستانی قیادت نے بڑے احسن انداز میں دوبارہ شروع کروایا۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر اس صدی کا سب سے بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے بہت نشیب و فراز دیکھے گئے کیونکہ اسرائیل بار بار ان مذاکرات کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش میں رہا لیکن پاکستانی قیادت نے کسی بھی موقع پر کم ہمتی نہیں دکھائی اور بالاخر چودہ نکاتی معاہدے پر اتفاق ہوا جس میں ایران اپنی کئی شرائط منوا چکا تھا۔ ایران امریکہ امن معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں امن کی راہیں ہموار ہونے کا امکان تھا لیکن نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ اس جنگ کو بند کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ نیتن یاہو نے امن معاہدے کو سبوتاڑ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کیونکہ اسرائیل کی بقا ہی جنگ و جدل میں ہے۔ یہی حال مودی حکومت کا ہے جس نے بھارتی عوام میں نفرت کے بیج بو دیے ہیں۔ مودی اور نیتن یاہو کا اقتدار ہر وقت جنگی ماحول قائم رکھنے میں ہی مضمر ہے۔ بھارت نے اس جنگ میں اسرائیل کی کھل کر حمایت کی، ایران کی مخبری کی اور اسرائیل کو اپنا باپ قرار دیا۔ بھارت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا اور دبئی کو براہموس میزائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارت، اسرائیل اور عرب امارات کا اتحاد وجود میں آ چکا ہے جو ایران، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے لیے خطرہ ہیں۔ چار مسلم ممالک کا نیٹو کی طرز پر اتحاد وقت کی ضرورت ہے جسے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب اور ترکی نے مل کر تشکیل دیا ہے۔ ایرانی قیادت چاہتی ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں اور ایرانی حکام کی تجویز ہے کہ پاکستان، ایران، مصر، ترکی، عمان، سعودی عرب اور قطر خطے کے امن کے لیے مشترکہ اتحاد تشکیل دیں۔ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے موقع پر لبنان پر حملے کے بعد جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لیا۔ امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ نوے لاکھ کی آبادی والے ملک نے پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے اور ہر مسئلے کا حل قتل عام اور جنگ نہیں ہے۔ اسرائیل امریکی اسلحہ کے بل بوتے پر خطے میں دندناتا پھر رہا ہے جس پر نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل آئندہ امریکی اسلحہ استعمال نہیں کرے گا بلکہ دفاع میں سرمایہ کاری کر کے اپنا اسلحہ خود استعمال کرے گا۔ اس جنگ میں پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف متاثر ہوئے ہیں اور سعودی عرب و قطر کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں دراڑ آئی ہے اور صدر ٹرمپ کے محمد بن سلمان کے بارے میں ریمارکس کے بعد تعلقات میں سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ عرب ممالک نے مارکو روبیو سے امریکی اڈے ہٹانے کا کہہ دیا ہے کیونکہ امریکہ کو اندازہ ہو چکا ہے کہ خلیجی جنگ میں اس کی معیشت تباہ ہوئی ہے اور مشرق وسطیٰ میں اس نے دوست کھو دیے ہیں۔ چالیس دن کی جنگ میں امریکہ کو معاشی دھچکا لگا ہے جبکہ ایران کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہونے اور ہر قسم کے مہلک ہتھیار آزمانے کے باوجود اسے جھکایا نہیں جا سکا۔ صدر ٹرمپ یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اگر دوسرے ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کو بھی اپنی حفاظت کے لیے بیلسٹک میزائل رکھنے کا حق حاصل ہے۔ امریکہ کے ایران کے بارے میں تبدیل ہوتے رویے نے نیتن یاہو کو بے چین کر دیا ہے اور وہ مقدمات اور جیل سے بچنے کے لیے جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے ایرانی مذاکراتی ٹیم کی ٹارگٹ کلنگ کی کوششیں کی گئیں جن میں وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ شامل تھے۔ پاکستانی قیادت کی جانب سے باور کرایا گیا کہ اگر کوئی ایسی حرکت کرنے کی کوشش کی گئی تو اسرائیل پر جوابی کارروائی کی جا سکتی ہے کیونکہ اسرائیل پاکستان کی طاقت سے واقف ہے۔ عرب اخبارات کے مطابق پاکستان نے پورے مذاکراتی عمل میں ایرانی قیادت کو سیکیورٹی فراہم کی تاکہ اسرائیل کوئی شرارت نہ کر سکے۔ برازیلین صحافی اسکوبار کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود ایرانی مذاکراتی ٹیم کو ٹارگٹ کیا جانا تھا جسے پاکستان نے ناکام بنانے کا پورا انتظام کیا تھا۔ امریکہ کے ذریعے اسرائیل کو پیغام دیا گیا کہ اگر ایسی کوئی حرکت ہوئی تو اسرائیل کے وجود کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی کاوشوں سے معاہدہ کامیاب ہوا جس میں دونوں فریقین اپنی عزت بچا کر اس نقطے پر راضی ہوئے کہ دنیا میں امن کے لیے خطے میں جنگ بندی ضروری ہے۔ پاکستان ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے اور جنرل عاصم منیر سمیت موجودہ پاکستانی قیادت کی کوششوں کا سہرا شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کے سر ہے جن کے انتھک کام سے یہ ممکن ہو سکا۔ ایرانی قیادت نے اس معاہدے میں پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی اور شکرانے کے طور پر ایرانی صدر نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں سستا تیل خریدنے اور پاکستان و ایران کے درمیان تیل و گیس پائپ لائن کھولنے کی راہیں ہموار ہوئیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ایرانی قیادت کے درمیان بھی معاہدہ کرانے کی کوشش میں ہے تاکہ ان کے درمیان ماضی کی تلخیاں دور ہوں کیونکہ اللہ رب العزت پاکستان سے امت مسلمہ کی امامت کا کام لے رہا ہے۔ پاکستان کی کاوشوں سے ایران اور امریکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھے تاہم اسرائیل ان مذاکرات یا معاہدے کو نہیں مانتا۔ پاسداران انقلاب دوران مذاکرات ہرمز میں گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں اور کوئی فریق بھی معاہدے کی مکمل پاسداری نہیں کر رہا۔ متحدہ عرب امارات کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور پاسداران انقلاب نے دبئی پر قبضے کی دھمکی دی ہے جس سے خلیج میں حالات پھر خراب ہو چکے ہیں۔ پاکستان کا عرب ممالک میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بھارت، اسرائیل اور پاکستان میں تحریک انصاف کو ہضم نہیں ہو پا رہا اور موجودہ معاہدے پر تحریک انصاف کے حامی صحافی اس کے خلاف لکھ رہے ہیں اور پاکستان کے بہترین کردار پر منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر اور موجودہ قیادت کی مخالفت میں پاکستان کے کردار کو منفی رنگ نہیں دینا چاہیے کیونکہ سب سے پہلے پاکستان ہے۔ پاکستان کی عزت ہماری عزت ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی چاہیے کہ ملکی سرحدوں کو محفوظ بنائے۔ عوام اندرونی کشمکش کی وجہ سے منقسم ہیں، ایک طرف آزاد کشمیر کے حالات خراب ہیں اور دوسری طرف دہشت گردی ہے۔ ہر روز سیاسی کارکنوں کی جماعتیں بدلنے کا عمل جاری رہتا ہے لیکن اللہ رب العزت نے پاکستان کو عزت سے نوازا ہے اس لیے جی ایچ کیو کو سیاسی معاملات سے دور رہنا چاہیے۔ سیاسی لوگوں کو بھی جرنیلوں سے مخالفت کی آڑ میں پوری فوج کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ اس سے بھارت اور اسرائیل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کو اس پر ضرور سوچنا چاہیے کہ دشمنوں کی زبان بول کر کس کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان میں موجود بھارتی اور اسرائیلی پراکسیز کو فائدہ پہنچ رہا ہے، رائ اور موساد خطے کے ممالک میں پراکسیز کو سپورٹ کرتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھٹکے ہوئے لوگ ان کی پے رول پر ہیں۔ کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کے حملے نے سیکیورٹی اداروں کی نااہلی کا پول کھول دیا ہے اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت نے عوام کی سیکیورٹی کا مناسب بندوبست نہیں کیا۔ ایران چالیس سال پابندیوں کے باوجود امریکہ جیسی سپر پاور کو گھٹنوں پر لے آیا کیونکہ اس کی قیادت نے کرپشن نہیں کی، مال نہیں لوٹا، بیرون ملک جائدادیں نہیں بنائیں اور ملک و قوم سے وفادار رہے۔ اللہ رب العزت پاکستان کو بھی ایسی ہی غیرت مند اور دیانت دار قیادت فراہم کرے۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کی سرحدوں کا آج تک تعین نہیں ہو سکا، مسلم ممالک کو چاہیے کہ اسرائیل کی سرحد بندی کے لیے ایک پیج پر اکٹھا ہوں تاکہ یہ عالمی بدمعاشی نہ کر سکے۔ اس کی خفیہ ایجنسی جہاں چاہتی ہے ٹارگٹ کلنگ کرتی ہے، حملہ کرتی ہے یا قبضہ کر لیتی ہے جیسا کہ مصر، شام، فلسطین اور لبنان کے کچھ علاقوں پر اسرائیل قابض ہے۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا ہے کہ لبنان ہمارا ہے، اس لیے مسلم ممالک کو چاہیے کہ آنکھیں کھولیں اور اپنے اندر اتحاد پیدا کریں۔ پاکستان مسلم ممالک کی امامت کر سکتا ہے، مغربی مبصرین کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کے لیے خطرہ ہے۔ مئی 2025 میں پاکستان نے اکھنڈ بھارت کا منصوبہ ملیامیٹ کیا اور اب ایران نے گریٹر اسرائیل منصوبے کو خاک آلود کیا ہے۔ عربوں کو احساس ہو چلا ہے کہ ان کی بقا اسی میں ہے کہ وہ امریکہ پر اعتماد چھوڑ کر اپنا مشترکہ دفاع تشکیل دیں اور پاکستان، ایران اور ترکی کے اشتراک سے خطے کا دفاع کریں۔ اللہ پاک پاکستان اور مسلم ممالک میں اتحاد پیدا فرمائے اور ان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔












