8 سالہ بچہ ہلاک، والدہ کو9 ملین ڈالرز کا معاوضہ مل گیا

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)وفاقی عدالت نے اس دل دہلا دینے والے مقدمے میں 9 ملین ڈالر کے سمجھوتے کی حتمی منظوری دے دی ہے جو ایک 8 سالہ بچے کی المناک موت سے متعلق تھا۔ یہ دردناک واقعہ جنوری 2020 میں اس وقت پیش آیا تھا جب بچے کو اس کے والد اور اس کی منگیتر نے بغیر کسی حرارت کے گاڑیوں کے گیراج میں شدید منجمند کرنے والی سردی کے دوران سونے پر مجبور کیا تھا۔ طبی تحقیقات کے مطابق بچے کی موت جسم کا درجہ حرارت انتہائی کم ہو جانے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ بچے کے والد، جو نیویارک کے محکمہ پولیس کے سابق اہلکار ہیں، اور ان کی منگیتر کو اس سنگین جرم کی پاداش میں پہلے ہی 25 سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ بچے کی والدہ نے مقامی حکام اور بچوں کے تحفظ کے ذمہ دار ادارے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ متعلقہ حکام کو بچے پر ہونے والے جسمانی تشدد، غذائی قلت اور بدسلوکی کی بار بار تنبیہات اور ثبوت فراہم کیے گئے تھے، لیکن انہوں نے بروقت اقدامات کرنے میں غفلت برتی۔ اس قانونی کارروائی کا بنیادی مقصد بچے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ادارے کی ناکامی کو سامنے لانا تھا۔ وفاقی جج نے تمام دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ یہ سمجھوتہ تمام فریقین کے لیے منصفانہ ہے اور اس سے مزید طویل اور مہنگی قانونی جنگ سے بچا جا سکے گا۔ اس سمجھوتے کے تحت حاصل ہونے والی رقم میں سے 5.6 ملین ڈالر سے زائد کی رقم بچے کی والدہ کو ملے گی جبکہ باقی رقم قانونی اخراجات اور بچے کے دیگر دو بھائیوں کے لیے محفوظ کی جائے گی، جو 18 سال کی عمر کو پہنچنے پر انہیں فراہم کی جائے گی۔ اس واقعے نے ملک بھر میں بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ فراہم کرنے والے سرکاری نظام کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here