اسلام آباد (پاکستان نیوز)اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں بدھ کی صبح تیسری منزل پر قائم گائنی وارڈ کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آتشزدگی کی وجہ ائیر کنڈیشنر کے کمپریسر کا دھماکہ یا شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، جبکہ نرسری میں موجود آکسیجن لائنوں کی وجہ سے آگ انتہائی تیزی سے پھیلی۔ جس وقت یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا اس وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے صرف 1 بچے کو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے بروقت بچایا، جبکہ دیگر 14 بچے شدید جھلسنے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لے کر آگ پر قابو پایا اور ساتھ والے وارڈ سے 73 سے زائد مریضوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس دردناک سانحے کے بعد اسپتال کے باہر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور متاثرہ والدین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے معطل کر دیا اور سابق وفاقی سیکرٹری شاہد خان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے جو واقعے کی وجوہات، لاپرواہی اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔







