رزم حق و باطل!!!

0
4
شبیر گُل

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ھو تو فولاد ھے مومن
شاعرِ مشرق نے کیا خوب کہا تھا کہ اگر حلقہ یاراں ہو تو ریشم کی طرح نرم ہونا چاہیے لیکن جب معرکہ حق و باطل درپیش ہو تو مومن کا وجود فولاد کی مانند سخت ہو جاتا ہے۔ آج خلیجی ریاستوں کی وہ مصنوعی جنتیں جو کبھی عیش و عشرت کا نمونہ تھیں، جہنم کا منظر پیش کر رہی ہیں اور ان خود ساختہ فردوسوں کے دربان اپنی جانیں بچانے کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔ دولت کے نشے میں چور عرب شہزادوں کا آج کوئی پرسانِ حال نہیں ہے کیونکہ ان کے محافظ ایک طرف تو ایران پر مہلک ہتھیاروں سے تباہی مچا رہے ہیں اور دوسری طرف مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت ہو کا عالم ہے اور ہر سو خوراک کی قلت کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گزرے ہوئے وبائی ایام دوبارہ لوٹ آئے ہوں۔ امریکہ اور بیشتر یورپی ممالک نے اپنے سفارتی عملے کو خلیجی ممالک سے واپس بلا لیا ہے جبکہ یورپی باشندے، ایلیٹ کلاس کے شہزادے اور متمول یہودی ان ریاستوں کو چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں۔ جن جن ممالک کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئی، ایرانی افواج نے وہاں موجود امریکی اڈوں کو جلا کر بھسم کر دیا ہے کیونکہ ایرانی قیادت کا یہ موقف ہے کہ پڑوسی ممالک کی زمین ان کے خلاف استعمال ہونے پر وہ خاموش نہیں رہیں گے بلکہ میزائلوں سے اس کا بھرپور جواب دیں گے۔موجودہ صورتحال میں امریکہ اور اسرائیل دراصل عرب ممالک کو ایران کے ساتھ جنگ کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں ایندھن کے ساتھ ساتھ غلے کا بحران بھی پیدا ہونا شروع ہو چکا ہے۔ یہ جنگ اب ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے اور دونوں اطراف سے شدید جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے گزشتہ پانچ سالوں میں ہدف بنا کر کی جانے والی کارروائیوں کے ذریعے جو کچھ حاصل کیا تھا وہ اب سب داؤ پر لگ گیا ہے کیونکہ حزب اللہ، حماس، پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی سائنسدانوں سمیت قیادت کے خاتمے کی کوششوں کے باوجود ایران نے ہر محاذ پر جو سخت جواب دیا ہے اس نے واشنگٹن کو سخت پریشان کر رکھا ہے۔ ایرانی حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے کویت، قطر، سعودی عرب، عراق، اردن اور بحرین میں امریکی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور یہاں تک کہ اسپین جیسے ممالک نے بھی اب امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایک امریکی دانشور کے مطابق عرب ممالک میں امریکی اڈوں اور سفارت خانوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے رسد کی فراہمی میں شدید دشواریاں پیش آ رہی ہیں جس کے باعث اب بھارتی بندرگاہوں کو فوجی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ جس جنگ کا حصہ بنا ہے اس کے اثرات مستقبل میں اس کی معیشت پر انتہائی بھیانک ہوں گے۔بحرِ ہند میں ایرانی بحری جہاز پر حملہ مودی کی اسی متعصبانہ سوچ کا عکاس ہے جس نے تمام بین الاقوامی ضابطوں کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ ستر سالوں میں خلیج میں جو فوجی ڈھانچہ کھڑا کیا تھا، ایران نے ابتدائی چند ایام میں ہی اسے ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ ایک چھوٹا ملک جس پر چالیس سال سے عالمی پابندیاں عائد ہیں، اس نے تن تنہا ایک بڑی طاقت کا خطے سے بوریا بستر گول کر دیا ہے۔ ایران پر چاروں اطراف سے ہزاروں ٹن بم برسائے جا رہے ہیں اور وہاں کے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا جا چکا ہے مگر ایرانی قوم اس وحشیانہ بمباری سے ذرا برابر بھی نہیں گھبرائی۔ اس جنگ نے پوری دنیا کو مفلوج کر دیا ہے اور اگر ایران کے پاس جدید جنگی طیارے ہوتے تو آج میدانِ جنگ کا منظر نامہ بالکل مختلف ہوتا۔ ایرانی قوم اب اپنے قائدین کی شہادت کے بعد مزید متحد ہو چکی ہے اور ان کا اندرونی خلفشار ختم ہو چکا ہے جس کے باعث دشمن کا نظامِ حکومت بدلنے کا منصوبہ دفن ہو گیا ہے۔ کردوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی کوششوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب کھیل دشمن کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور امریکہ و اسرائیل یہ جنگ ہار چکے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کی قوم نے سر پر کفن باندھ لیا ہے اور اب تک سینکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ تل ابیب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، حیفا تباہ کر دیا گیا ہے اور صہیونی ریاست کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے جواب میں وہ اب شہری آبادیوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ ان عالمی شیطانوں کو اپنے کیے کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے کیونکہ ایرانی ایک جنگجو قوم ہے جس نے کبھی غلامی قبول نہیں کی۔ ایران کے پاس اب بھی ڈرونز اور مختلف اقسام کے ہزاروں میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے اور چونکہ ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا اس لیے یہ سرپھرے مجاہد اسرائیل کی مکمل تباہی تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انشائ اللہ صہیونیت کا مقدر اب شکست ہی ہے اور یہودی اپنے بنکروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ دوسری طرف غزہ میں امن مشن اور ابراہیمی معاہدے کا جنازہ نکل چکا ہے اور یورپی قیادت بھی اب یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ امریکہ دنیا سے جھوٹ بول رہا ہے کہ وہ جنگ جیت رہا ہے جبکہ حقیقت میں وہ اس دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔
اس جنگ نے عالمی منڈیوں اور اسٹاک مارکیٹ کو کریش کر دیا ہے اور خلیجی ممالک کی وہ ساکھ برباد ہو گئی ہے جو انہوں نے دہائیوں میں بنائی تھی۔ مسلمانوں کے اندر موجود جاسوسوں کی موجودگی کے باوجود ایران کا ڈٹ جانا پوری مسلم امہ کے لیے ایک پیغام ہے۔ ایران کے پرانے دوست بھارت نے ہر محاذ پر اسے دھوکہ دیا ہے اور مودی کی پالیسیاں خطے کے امن کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔ چینی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ امریکہ یہ جنگ ہارے گا جس سے ڈالر کی برتری ختم ہو جائے گی اور ایک نیا عالمی نظام تشکیل پائے گا جس میں دبئی اور خلیجی ممالک کا معاشی بلبلہ پھٹ جائے گا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ڈھائی ارب کی آبادی رکھنے والے ستاون اسلامی ممالک تاش کے پتوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں اور ان میں نہ اتحاد ہے نہ باہمی تجارت، اسی لیے دشمن ہمارے بچوں کو ذبح کرتا ہے اور ہماری مساجد کو تباہ کرتا ہے مگر عالمی ضمیر سویا رہتا ہے۔ سابق امریکی صدر نے نائن الیون کے وقت مسلمانوں کے خلاف جس صلیبی جنگ کا اعلان کیا تھا، وہ آج بھی مختلف صورتوں میں جاری ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک مہذب کہلاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ ہمارے خلاف بھی مختلف محاذوں پر گٹھ جوڑ کیا جا رہا ہے تاہم ہمارے شاہینوں نے ہمیشہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ہم فلسطین یا عراق نہیں ہیں بلکہ ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہماری بہادر افواج علاقائی غنڈوں کو ناکوں چنے چبوانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے سفاک کردار انسانیت کے مجرم ہیں اور وہ دن دور نہیں جب یہ اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ پاکستان کو بھی ایک قصائی مودی سے واسطہ ہے جسے ہمارے شیر دل جوان عبرتناک سبق سکھا چکے ہیں۔ بھارتی قیادت نیتن یاہو کے ساتھ مل کر چھپ کر وار کرنا چاہتی تھی لیکن ہمارے جوانوں نے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ انشائ اللہ وہ دن دور نہیں جب بھارت پاش پاش ہوگا اور اسرائیل کا وجود بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ اللہ رب العزت تمام مسلمانوں اور وطنِ عزیز کی حفاظت فرمائے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here