اسرائیل کو عظیم تر بنانے کی مہم!!!

0
4
کامل احمر

امریکہ کی گذشتہ53 سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو کہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ کسی صدر نے موجودہ صدر کی طرح حرکتیں کی ہونگی۔ جب صدارتی انتخاب کی مہم شروع ہوئی تھی تو کچھ لوگ صدر کے اردگرد تھے جس میں سے لگنا تھا کہ وہ اپنے ان مشیروں کے مشورے سے اپنے سلوگن Make America Great Againپر چلتے ہوئے امریکہ کو اعلیٰ مقام دے جائینگے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ سلوگن رونالڈ ریگن کا تھا۔ اور ان سے پہلے ایک نہایت شریف انسان جو جمی کارٹر تھے جو ایران میں امریکی حملے کی ضد کی وجہ سے شکار ہوئے، پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور وہ صرف ایک ٹرم پوری کر کے خدمت خلق میں لگ گئے۔ ریگن کے پاس ایسا کچھ نہیں تھا کہ لوگ پسند کرتے سوائے اس کے کہ وہ فلموں میں اداکاری کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ فلمی دنیا میں نہیں چلے تو سیاست میں آگئے، چونکہ اسپیکر اچھے تھے کیلیفورنیا کے گورنر بن گئے، اور پھر ان کے ارد گرد امریکہ کو اپنی طرح چلانے کیلئے بڑے لکھ پتیوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور صدر بنا دیا۔ اس میں اسرائیل سرگرم تھا اپنے مفاد کے لئے۔ صدام حسین نے کہا تھا “ریگن ایک B گریڈ اداکار ہے” جو درست تھا۔ اس بی گریڈ اداکار کو اسرائیل نے اپنے ہاتھوں میں نچایا اور عراق سے بغض معاویہ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ اسرائیل کو شہ مل گئی اور ریگن کے آتے ہی بغداد میں واقع نیوکلیئر ری ایکٹر کو میزائل مار کر تباہ کر دیا۔ وزیر اعظم مناکیم بیگن کا کہنا تھا کہ عراق کو نہ روکا گیا تو وہ نیوکلیئر ہتھیار بنا کر تباہی مچا دے گا۔ اس بات کا اتنا پروپیگنڈا کیا گیا کہ امریکہ نے شور مچادیا کہ عراق کے پاس خطرناک ہتھیار ہیں۔ یہاں سے اسرائیل کی سازش شروع ہوئی۔ ریگن کے بعد کلنٹن آئے اسمارٹ تھے اور کھلاڑی بھی۔ اور یہ بھی اسرائیل کے کہنے میں تھے۔ تماشے چلیں ان سے پہلے جارج ایچ ڈبلیو بش صدر بنے تھے لیکن یہودی لابی سے ناراضگی کی وجہ صرف ایک ٹرم کے بعد بش کو جانا پڑا۔ ان کے سیکرٹری (خارجہ) جیمز بیکر اور بش کی گفتگو کا مرکز اسرائیل تھا۔ بات باہر نکل گئی اور اسرائیل نے خطرہ سونگھ لیا نتیجے میں انہیں دوسری ٹرم نصیب نہ ہوئی حالانکہ ان کے دور میں جارج بش نے عراق میں فوجیں بھی اتاریں تھیں۔ اس وقت یہودی لابی اتنی مضبوط نہ تھی جیسے AIPAC کہتے ہیں۔ فیصلہ ہوا کلنٹن کو آزمایا جائے۔ کلنٹن نے عقلمندی کا راستہ اختیار کیا اور دو ٹرم کیلئے صدر بنے۔ اس دوران اسرائیل نے امریکہ کے سینیٹرز اور کانگریس مین اور وومن کو ان کی کمزوریوں کے ذریعے اپنے ہاتھ میں لینا شروع کیا۔ کلنٹن کے بعد بش کے بیٹے جارج ڈبلیو بش صدر بن گئے۔ ان کے دور میں AIPAC نے اپنا اصل رنگ دکھانا شروع کیا اور گریٹر اسرائیل کی بنیاد پڑنا شروع ہوئی اور امریکہ پر بھونچال آنا شروع ہو گیا۔ مارچ 2003 کو عراق کو الٹی میٹم دینے کے بعد اور تباہ کن ہتھیاروں کے حوالے سے بے معنی اور جھوٹی خبروں کو پھیلا کر راتوں رات عراق پر بمباری کر دی۔ صدام حکومت چھوڑ کر روپوش ہو گیا اور عراق کو اس کے مخالفوں نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ جشن منائے گئے تھے ۔بش کے بعد AIPAC نے بارک اوبامہ کو آگے بڑھایا۔ وہ Yes We Can کے سلوگن کے ساتھ آئے اور چھا گئے، امن کا نوبل پرائز بھی لے گئے، جس کا علم اوبامہ کو نہ تھا۔بارک اوبامہ تاریخ میں کامیاب صدر بن گئے جن کے زمانے میں مسلم ممالک پر ٹارگٹ بمباریاں ہوتی رہیں۔ AIPAC نے ٹرمپ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا جن کا کریڈٹ ریکارڈ ایک عیاری فراڈی امریکن کی طرح لیکن لوگ سیاست دانوں سے تنگ آ چکے تھے اور چنگل سے نکلنا چاہتے تھے۔ بالآخر ٹرمپ کو صدر بنا دیا ۔ تاثر دیا گیا کہ ٹرمپ نے جنگیں رکوادی۔ لیکن ایران پھر اسرائیل کی نظر میں نہیں بلکہ لبنان، شام، مصر، اردن کے بعد ان کے سامنے سینہ تانے کھڑا تھا۔ اس وقت آیت اللہ خامنائی نے ایران کو سنبھال ہوا تھا باوجود اس کے کہ امریکہ نے اپنی فطرت کے مطابق ان کا حقہ پانی بند کر دیا تھا۔ مگر وہ آئل کی وجہ سے اپنے پاؤں پر کھڑا تھا۔ اسرائیل کو وقفہ درکار تھا سو کچھ فیصلے کرنے انہوں نے اپنے مطلب سے صدر بنا دیا وہ پہلے مینیپولیٹ (manipulate) کر چکے تھے اور بڑھاپے میں کمزور یادداشت اور دوسری بیماریوں کا شکار رہے تھے۔ اور جو بائیڈن کا بیٹا غیر قانونی حرکت کی وجہ سے قانون کے پھندے میں پھنس گیا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم کیا ڈیل ہوئی یا بائیڈن کے صاحبزادے پر جو بھی الزامات تھے اور وہ قانون کی زد میں تھے معاف کر دیئے گئے۔ اور ملاحظہ ہو امریکہ جو دنیا میں سب سے بڑا کامیاب اور طاقتور ملک تھا اسرائیل کی زد میں آچکا تھا۔ اسی دوران ایپسٹین فائل کا انکشاف ہوا جس میں کلنٹن، ٹرمپ اور بہت سے نامی گرامی لکھ پتی بدمعاش شامل تھے۔ کچھ تصاویر باہر آچکی ہیں کہ ٹرمپ ایک بہت ہی کمسن لڑکی کو گود میں لئے بیٹھے ہیں۔ فائل نیتن یا ہو کے قبضے میں ہے اور ٹرمپ کو خطرہ ہے کہ فائل باہر نہ آئے۔ نتیجے میں نیتن یاہو کے مشورے سے ایران کے ساتھ جو امن میٹنگ تھی امریکہ نے ختم کر دی اور اب ٹرمپ یعنی امریکی صدر اسرائیل کی سن رہا ہے اور راتوں رات ایران پر بمباری شروع کر کے اسرائیل کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ لیکن ایک مشہور قول ہے “آپ ہمیشہ سب کو بیوقوف نہیں بنا سکتے البتہ کچھ لوگوں کو کبھی کبھی بنا سکتے ہیں”۔ اب ہمارا تجزیہ ہے کہ ایران کے خلاف برسوں سے مہم چلائی جا رہی ہے۔ لیکن ایران کی پشت پناہی روس اور چین کر رہے ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کو روکنا ہوگا کہ امریکہ اسرائیل کے بہکاوے میں آکر مالی حالت مزید نہیں بگاڑ سکتے۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ فائل ہی نکلے گی اور نیتن یاہو کے خلاف امریکن سڑکوں پر آئینگے۔ اسرائیل تو دنیا کو بیوقوف بنا رہا ہے اسے سوچنا پڑے گا جب کہ پہلے سے ہی وہ عالمی مجرم بن چکا ہے صرف امریکہ اسے گود میں لئے ہوئے ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے اب اور بلکہ United States for Israelبن چکا ہے کیا یہ بات امریکن برداشت کرینگے۔ فیصلہ آپ پر!!

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here