چین کی پراسرار سٹریٹیجک پسپائی، پاکستان کے لیے سوالیہ نشان!!!

0
4

چین کی پراسرار سٹریٹیجک
پسپائی، پاکستان کے
لیے سوالیہ نشان!!!

عالمی سیاست کے بساط پر جب بھی مفادات کی جنگ چھڑتی ہے تو پرانے اتحاد اور نئی دوستیاں اکثر تزویراتی مصلحتوں کی نذر ہو جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کے قلب میں اٹھنے والے تلاطم نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں جذباتی وابستگی کے بجائے سرد مہری سے کیے گئے فیصلے ہی ریاستوں کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ ایران جو طویل عرصے سے ایشیا کی عظیم طاقت چین کا قریبی ترین اسٹرٹیجک شراکت دار اور خطے میں مغربی اثر و رسوخ کیخلاف ایک مضبوط ڈھال سمجھا جاتا رہا ہے آج ایک ایسی آگ کی لپیٹ میں ہے جس نے اس کی سلامتی اور بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایرانی قیادت کو پہنچنے والے نقصانات اور وہاں کے داخلی نظام کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں پر بیجنگ کا ردعمل محض لفظی مذمتوں اور سفارتی بیانات تک محدود رہنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بیجنگ کے نزدیک اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کسی بھی نظریاتی یا سیاسی دوستی سے کہیں زیادہ مقدم ہے۔ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ چین خفیہ طور پر اسلحے اور ٹیکنالوجی میں ایران کی مدد کرتا آیا ہو اور اب بھی کر رہا ہو، لیکن ایران کو اس وقت اسلحے سے کہیں زیادہ سفارتی طور پر مضبوط پارٹنر شپ کی اشد ضرورت ہے جس سے وہ ابھی تک محروم نظر آرہا ہے۔ بیجنگ کی اس دانستہ خاموشی اور عملی دوری کے پیچھے کئی ایسی تہوں میں لپٹے ہوئے حقائق موجود ہیں جن کا ادراک کیے بغیر موجودہ صورتحال کو سمجھنا ناممکن ہے۔ چین کی معیشت کا پہیہ بڑی حد تک توانائی کی بلا تعطل فراہمی پر منحصر ہے اور مشرق وسطیٰ سے آنیوالا تیل اس کی صنعتی ترقی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے اس وقت جنگی بادلوں کی زد میں ہے اور بیجنگ بخوبی جانتا ہے کہ اس تنازع میں براہ راست کودنے کا مطلب اپنی معیشت کو خود اپنے ہاتھوں سے مفلوج کرنا ہوگا۔ چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں جس طرح اپنی معاشی سلطنت کھڑی کی ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ہنگامے کا حصہ نہ بنے جو اسے عالمی تجارتی منڈیوں سے الگ تھلگ کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نے ہمیشہ سے عدم مداخلت کی پالیسی کو اپنا ہتھیار بنائے رکھا ہے تاکہ وہ ایک طرف تو امریکہ کی تسلط پسندی پر تنقید کر سکے اور دوسری طرف خود کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے محفوظ رہے۔مشرق وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے قدم صرف ایران تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے ساتھ بھی انتہائی گہرے اور منافع بخش تجارتی مراسم استوار کر رکھے ہیں۔ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ بیجنگ کی ان ممالک میں سرمایہ کاری اور وہاں سے تیل کی خریداری کا حجم تہران کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ اگر چین اس جنگ میں ایران کا ساتھ دینے کے لیے کوئی عسکری یا ٹھوس قدم اٹھاتا ہے تو اس سے نہ صرف اس کے ان اہم خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ خطے میں اس کا وہ اثر و رسوخ بھی داؤ پر لگ جائے گا جو اس نے سالہا سال کی خاموش سفارت کاری کے بعد حاصل کیا ہے۔ چینی قیادت اس حقیقت سے بھی آگاہ ہے کہ ایران کے پڑوسی ممالک تہران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور بیجنگ کبھی نہیں چاہے گا کہ وہ ایک دوست کو بچانے کی خاطر پورے خطے کو اپنا دشمن بنا لے۔ اس تناظر میں چینی وزیر خارجہ کے بیانات جن میں جنگ کے پھیلاؤ کو خلیجی ریاستوں کے مفادات کے خلاف قرار دیا گیا ہے دراصل تہران کو یہ پیغام ہے کہ وہ اپنی حفاظت کا بندوبست خود کرے کیونکہ بیجنگ اپنے وسیع تر علاقائی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔بیجنگ کا یہ رویہ ان تمام ممالک بشمول پاکستان کیلئے بھی ایک عبرت ناک سبق ہے جو چین کو امریکہ کے مقابلے میں ایک نئے عالمی نظام کا علمبردار اور کمزور ریاستوں کا محافظ تصور کر رہے تھے۔ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسی بین الاقوامی انجمنوں میں ایران کی شمولیت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا اور یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اب ایران تنہا نہیں رہا بلکہ اسے دنیا کی بڑی معاشی اور فوجی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہو چکی ہے۔ لیکن جب آزمائش کا وقت آیا تو یہ تمام تنظیمیں اور معاہدے صرف کاغذ کے ٹکڑے ثابت ہوئے جو میزائلوں کی گھن گرج اور فضائی حملوں کے سامنے ریت کی دیوار بن گئے۔ اسلام آباد کو بھی یہ ادراک کرنا ہوگا کہ محض اسٹریٹجک شراکت داری کے دعوے اور دفاعی معاہدوں پر حد سے زیادہ انحصار کسی بھی ملک کی بقا کی ضمانت نہیں بن سکتا، خاص طور پر جب حلیف طاقتیں اپنے معاشی مفادات کو ترجیح دینے کی عادی ہوں۔ ایران کے معاملے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب کوئی ملک براہ راست کسی بڑی طاقت کے نشانے پر آتا ہے تو بیجنگ جیسے بڑے شراکت دار بھی اپنے تجارتی راستوں اور عالمی ساکھ کو بچانے کی خاطر خاموش تماشائی بننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لائے اور کسی ایک بلاک پر مکمل تکیہ کرنے کے بجائے اپنی داخلی معیشت اور دفاعی صلاحیت کو اتنا خود مختار بنائے کہ اسے نازک لمحات میں بیرونی سہارے کی تلاش نہ کرنی پڑے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالمی طاقتیں ہمیشہ اپنے قومی مفاد کو دوستی پر مقدم رکھتی ہیں، لہٰذا پاکستان کے لیے سبق یہی ہے کہ اپنی سلامتی کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کے بجائے اپنی بنیادیں اتنی مضبوط کرے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کا مقابلہ تن تنہا کرنے کی سکت رکھتا ہو۔مستقبل کی تاریخ جب لکھی جائے گی تو اس میں بیجنگ کی اس روش کو ایک ایسی خود غرضانہ سیاست کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں ایک دوست کو قربان کر کے اپنی سلامتی کا سودا کیا گیا۔ چین کا یہ وطیرہ نیا نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی اس نے وینزویلا اور دیگر قریبی ممالک کے بحرانوں میں اسی طرح کی خاموشی اختیار کر کے اپنے مفادات کو ترجیح دی تھی۔ تہران کے لیے اب یہ سوچنا ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ان اتحادوں پر کتنا انحصار کر سکتا ہے جو صرف خوشحالی کے دنوں کے ساتھی ہیں۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ ایک اشارہ ہے کہ چین کی قیادت میں بننے والا نیا بلاک ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ وہ کسی بڑی طاقت کے خلاف عملی مزاحمت کر سکے۔ بیجنگ کی پالیسی اب بھی یہی ہے کہ وہ دوسروں کے معاملات میں دخل دئیے بغیر صرف اپنے معاشی ڈھانچے کو مضبوط کرے اور جب تک کوئی خطرہ براہ راست اس کی اپنی سرحدوں تک نہیں پہنچتا وہ مذمتی بیانات کی ڈھال کے پیچھے چھپا رہے گا۔ اس صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا بلکہ صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں اور چین اس اصول پر سختی سے کاربند ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here