ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس وقت عالمی معیشت کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں عدم استحکام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ دنیا پہلے ہی مہنگائی، توانائی کے بحران اور رسد کی فراہمی میں رکاوٹوں جیسے سنگین معاشی چیلنجز سے نبرد آزما تھی، مگر اس تازہ صورتحال نے ان مسائل کی پیچیدگی کو دوچند کر دیا ہے۔ اگر یہ تصادم طول پکڑتا ہے تو اس کے اثرات محض مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ چونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا میں تیل کی پیداوار کا مرکز ہے اور ایران اس خطے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے خلیج فارس کے راستے ہونے والی تیل اور گیس کی ترسیل میں معمولی سی رکاوٹ بھی عالمی منڈی میں قیمتوں کو آگ لگا سکتی ہے۔تیل کی قیمتوں میں یہ ممکنہ اضافہ براہِ راست عالمی سطح پر مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا کیونکہ توانائی کی قیمتیں بڑھتے ہی ٹرانسپورٹ، صنعتی پیداوار اور دیگر بنیادی خدمات کی لاگت میں خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے۔ توانائی کے اس بحران کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت کا پہیہ بھی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ بین الاقوامی تجارتی گزرگاہوں کا ایک اہم سنگم ہے۔ اگر سمندری راستے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں تو اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوگا جس سے دنیا کے کئی ممالک میں معاشی بحران کی لہر جنم لے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے، جہاں سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنے سرمائے کے تحفظ کے حوالے سے خوفزدہ ہیں۔اسٹاک مارکیٹوں میں ہونے والا یہ اتار چڑھاؤ سرمایہ کاری کی رفتار کو سست کر دیتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، لہٰذا عالمی منڈی میں قیمتوں کا معمولی ردوبدل بھی ملکی درآمدی لاگت میں بھاری اضافے کا سبب بنتا ہے جو بالآخر عام آدمی کے لیے مہنگائی اور معاشی دباؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس معاشی بوجھ کے ساتھ ساتھ جنگی حالات دنیا بھر میں دفاعی بجٹ میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جس کے نتیجے میں تعلیم، صحت اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے اور یوں عالمی سطح پر انسانی ترقی کا عمل پیچھے رہ جاتا ہے۔ان سنگین حالات میں عالمی برادری پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض خاموش تماشائی بننے کے بجائے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ مذاکرات اور امن کے عمل کو ترجیح دیں تاکہ اس تصادم کو ایک ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔ تاریخ کا سبق واضح ہے کہ طاقت کا استعمال کبھی بھی پائیدار حل فراہم نہیں کرتا بلکہ یہ ہمیشہ نئی تباہی اور طویل المدتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ اگر اس وقت عالمی طاقتوں نے دانشمندی اور بردباری کا مظاہرہ نہ کیا تو اس جنگ کے معاشی اور انسانی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے، اس لیے عالمی استحکام کی واحد ضمانت صرف اور صرف امن کی راہ اختیار کرنے میں ہی مضمر ہے۔
٭٭٭












