مشرق وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے تیل کی بو، مسلکی رقابتوں اور بیرونی مداخلتوں کی آماجگاہ رہی ہے، لیکن اب یہ خطہ ایک بالکل مختلف اور بارود کی بو سے لیس دور میں داخل ہو رہا ہے۔ صحرا کے سینے سے نکلتا ہوا سیاہ سونا، جس نے کبھی جدید سعودی عرب کی بنیاد رکھی تھی، اب خود اپنے ہی گھر کے انوار و تجلیات کو قائم رکھنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ جب ایک ایسا ملک جس کے قدموں تلے تیل کے سمندر موجزن ہوں، ہر روز لاکھوں بیرل خام تیل صرف اپنے بجلی گھروں اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے کارخانوں میں جلا ڈالے، تو معاشی حکمت عملی کا یہ تقاضا تو بالکل سمجھ میں آتا ہے کہ وہ متبادل توانائی کی طرف قدم بڑھائے۔ ایٹمی طاقت سے بجلی بنانا سعودی معیشت کی اشد ضرورت بن چکا ہے کیونکہ بازار میں بکنے والا ہر بیرل ریاض کے خزانے کو بھرتا ہے، جبکہ گھر میں جلا دیا جانے والا ہر قطرہ ایک ضائع شدہ موقع ہے۔ اس نقطہ نظر سے سعودی عرب کا سترہ ایٹمی ری ایکٹر لگانے کا منصوبہ محض ایک تکنیکی ضرورت اور معاشی بچت کا معقول جواز دکھائی دیتا ہے۔ لیکن مسلہ ایٹمی بجلی کی پیدائش پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس سے آگے اس نقطہ پر شروع ہوتا ہے جہاں طاقت، خودمختاری اور غیر معلنہ مقاصد کی دھندلی سرحدیں باہم ملتی ہیں۔ایٹمی ایندھن کا حصول دو طریقوں سے ممکن ہے؛ یا تو آپ عالمی منڈی سے تیار شدہ ایندھن کی چھڑیاں خریدیں اور اپنے ری ایکٹر چلائیں، یا پھر اپنی ہی زمین پر یورانیم کو صاف اور افشودہ کرنے کی مکمل صلاحیت حاصل کریں۔ دنیا کے بیسیوں ممالک بغیر کسی تنازع کے پہلی راہ اختیار کیے ہوئے ہیں، لیکن ریاض نے دوسری راہ کا انتخاب کیا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سے شکوک و شبہات کے چراغ جلتے ہیں اور عالمی طاقتوں کی منافقت کا نقاب اترتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنی زمین پر یورانیم افشودہ کرنے کی ضد کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایٹمی بم بنانے سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ امریکہ نے اس سے قبل اپنے دیگر اتحادیوں، خصوصاً متحدہ عرب امارات کے ساتھ جب بھی معاہدے کیے تو ان پر ایسی سخت شرائط عائد کیں جنہیں دنیا میں سنہرا معیار کہا جاتا تھا۔ ان شرائط کے تحت کوئی بھی عرب ملک اپنی زمین پر نہ تو یورانیم صاف کر سکتا تھا اور نہ ہی استعمال شدہ ایندھن کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا سکتا تھا، نیز انہیں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے انتہائی سخت اور ناگہانی معائنے بھی قبول کرنا پڑتے تھے۔ لیکن واشنگٹن نے ریاض کے ساتھ حالیہ معاہدے میں ان تمام قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ جو اصول اور قوانین دنیا کے باقی تمام ممالک کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتے تھے، وہ ایک خاص اتحادی کے سامنے آتے ہی موم کی طرح کیوں پگھل گئے؟ اس کا سادہ اور تلخ جواب یہ ہے کہ جب عالمی تجارت، کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور جیو پولیٹیکل مفادات کا معاملہ سامنے آئے تو امریکہ کے لیے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتے ہیں۔ قانون کی یہ نرمی اور اصولوں کی یہ تبدیلی ایک انتہائی خطرناک روایت کو جنم دے رہی ہے۔ اگر کل کو ترکیہ، مصر یا دیگر علاقائی طاقتیں یہ سوال اٹھائیں کہ امریکہ کا قانون اپنے پسندیدہ دوستوں کے لیے کچھ اور اور باقی دنیا کے لیے کچھ اور کیوں ہے، تو واشنگٹن کے پاس اس کا کوئی منطقی جواب نہیں ہوگا۔ جس دن کوئی قانون اپنے ہی دوست کے لیے موڑ دیا جائے، وہ قانون نہیں رہتا بلکہ ایک بولی بن جاتا ہے جس کی قیمت بازار میں ادا کی جا سکتی ہے۔
اس پورے واقعاتی منظر نامے کا سب سے خوفناک پہلو مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کی ایک نئی اور بے قابو دوڑ کا آغاز ہے۔ سعودی قیادت متعدد بار کھلے بندوں یہ اعلان کر چکی ہے کہ اگر ان کا روایتی حریف ایران ایٹمی بم بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ بھی بغیر کسی تاخیر کے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ یہ محض ایک جذباتی بیان نہیں بلکہ ایک باضابطہ اور طے شدہ ریاستی پالیسی کا کھل کر کیا گیا اظہار ہے۔ اگر ایران کی بڑھتی ہوئی ایٹمی صلاحیتوں کے جواب میں سعودی عرب بھی اسی راستے پر نکل کھڑا ہوتا ہے، تو دنیا کے سب سے زیادہ نازک اور معادی جغرافیے میں ایٹمی طاقتوں کی تعداد میں تشویش ناک اضافہ ہو جائے گا۔ ایک ایسے چھوٹے سے خطے میں جہاں پہلے ہی سے مختلف ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہو، وہاں کئی ایٹمی طاقتوں کا بالمقابل آ کھڑا ہونا کسی تباہ کن المیے سے کم نہیں ہوگا۔ وہاں نہ تو کوئی آپسی بات چیت کا مستقل نظام موجود ہے، نہ ہی تنازعات کو حل کرنے کے لیے کوئی معتبر ثالث قائم ہے، اور نہ ہی کسی فوری حادثے سے بچنے کے لیے براہ راست رابطہ لائنیں موجود ہیں۔اس تمام تر تناظر میں بعض مغربی تجزیہ کار پاکستان کے نام کو بھی بلاوجہ اس صورت حال میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو غیر ضروری طور پر ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی سے جوڑتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کا ثبوت دیا ہے اور اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ اس نے اپنی حساس ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو منتقل کی ہو۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر اس خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود پاکستان کو پہنچے گا، کیونکہ سرحدوں پر تناؤ اور غیر یقینی صورت حال میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ امریکہ نے اپنے دوست کے لیے جو قانون بدلا ہے، اس نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کی تمام عالمی کوششوں کو شدید صدمہ پہنچایا ہے۔ دنیا کو اب یہ کڑوا سچ تسلیم کر لینا چاہیے کہ مشرق وسطیٰ میں پانچویں ایٹمی طاقت کا راستے کی بنیاد ایران کی ضد سے زیادہ واشنگٹن کے قلم کی اس روشنائی سے رکھی جا رہی ہے جس نے ایک دوست کی خاطر اپنے ہی اصولوں کو قربان کر دیا۔
٭٭٭









