پاکستانی امریکن کمیونٹی مجموعی طور پر شدید انتظامی و نظریاتی بکھراؤ کا شکار نظر آتی ہے، جس کے اندر ذات پات، لسانیت، نسل پرستی، فرقہ واریت اور قوم پرستی جیسے عناصر اس حد تک سرایت کر چکے ہیں کہ باہمی برداشت اور رواداری ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ان منفی رجحانات کے اثرات امریکہ میں مقیم تارکین وطن پر بھی نمایاں ہیں، جن کا اظہار یوم پاکستان یا دیگر مذہبی و قومی تہواروں کے مواقع پر ہوتا ہے۔
آج کل امریکہ میں 14 اگست کے یوم آزادی کے موقع پر پوری پاکستانی امریکن کمیونٹی تقسیم در تقسیم نظر آتی ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے محلے اور شہر میں قیادت کا مدعی بن کر پاکستان کے نام پر میلوں اور ٹھیلوں کا سہارا لے رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی ماہ اگست میں یوم پاکستان کے نام پر متعدد متوازی میلوں اور فنکشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستانی کوئی منظم قوم نہیں بلکہ کسی ہجوم کا نام ہیں، جو تماشہ گروں کی آواز پر جمع ہوتا ہے اور تماشہ ختم ہوتے ہی بکھر جاتا ہے۔
اس طرز عمل سے کمیونٹی مختلف دھڑوں اور گروہوں میں بٹ چکی ہے۔ ماضی میں جس مرکزی پریڈ میں دور دراز سے لوگ آ کر جذباتی وابستگی کے ساتھ شامل ہوا کرتے تھے، اب انہوں نے ان غیر ضروری اور غیر منظم میلوں میں آنا بند کر دیا ہے۔ بالخصوص نیویارک جیسے کثیر آبادی والے شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں لاتعداد متوازی میلوں کے انعقاد سے کمیونٹی بری طرح تقسیم ہو چکی ہے۔ اس صورت حال کے باعث کمیونٹی کے بہت سے سنجیدہ افراد اپنے گھروں تک محدود ہو کر یوم آزادی منانے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض عناصر ان میلوں اور ٹھیلوں کی بے مقصد رکھوالی کرتے نظر آتے ہیں۔یہ صورت حال دیکھ کر شدید دلی رنج ہوتا ہے کہ جس عظیم دن پاکستان وجود میں آیا تھا اور جس کے لیے لاکھوں نفوس نے عظیم قربانیاں دیں، اس کی تاریخی اہمیت اور ہجرت کی عظمت کا اس طرح بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم نیویارک اور اس کے گرد و نواح میں اگست کے مہینے میں میلوں کی بھرمار ہے اور مختلف منتظمین کے درمیان اس بات کا مقابلہ جاری ہے کہ کس کے میلے میں کتنا مجمع ہوتا ہے۔ نتائج کے طور پر کمیونٹی ہزاروں کے بجائے سینکڑوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے اور اکثریت نے ان تقاریب سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ماضی میں انعقاد پذیر ہونے والی ایک مرکزی اور عظیم الشان پریڈ انتظامی بدحالی اور دھڑے بندی کی وجہ سے اب انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ بروکلین کا میلہ محض اس وجہ سے کسی حد تک کامیاب رہتا ہے کیونکہ وہ علاقہ پاکستانی امریکن کمیونٹی کا مرکزی مسکن ہے، جبکہ دیگر بے شمار چھوٹے موٹے میلوں کا شمار کرنا بھی وقت کا ضیاع معلوم ہوتا ہے۔
یوم آزادی کے مقدس اور قومی موقع پر اپنی ذاتی انا اور مفادات کی خاطر کمیونٹی کو تقسیم کرنا ایک سنگین اخلاقی و قومی غفلت ہے۔ اس سلسلے میں دیگر اقوام سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے تمام تر قومی و مذہبی تہوار مکمل اتحاد اور نظم و ضبط کے ساتھ مناتی ہیں اور جگہ جگہ متوازی تقاریب کا انعقاد نہیں کرتی۔ یہ ہر باشعور پاکستانی امریکن کے لیے فکر اور لائحہ عمل کی مقام ہے کہ ماضی میں منعقد ہونے والی اسرائیلی پریڈ میں یہودیوں نے دور دور سے آ کر بھرپور شرکت کی اور اپنے کامل اتحاد کا مظاہرہ کیا، جبکہ آدھے ملین کے قریب آبادی کے باوجود نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی تقسیم کا شکار ہو کر محض سینکڑوں کی تعداد میں نظر آتی ہے۔ اس بداتحادی کو ختم کر کے ایک اور منظم قوم کا ثبوت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)












