رہائی!!!

0
135
عامر بیگ

امریکہ کی سابقہ خاتون اول اور وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کہتی ہیں کہ پاکستان میں اقتدار آرمی جنرلز کے ہاتھ میں ہے تو کیوں نہ پھر معاملات بھی ان ہی سے کیے جائیں یہی وجہ ہے کہ عمران خان بھی مذاکرات آرمی چیف ہی سے کرنا چاہتے تھے اس بابت انہوں نے دو کھلے خطوط ارسال کیے جن کا تاہم خاطر خواہ جواب تو نہیں ملا مگر کچھ برف ضرور پگلی اب چونکہ خیبر پختونخواہ میں سینٹ کے انتخاب مکمل ہوگئے ہیں الیکٹوریل کالج بھی مکمل اب فیلڈ مارشل شاید صدارتی منصب سنبھالنے کی تیاری میں ہوں گے اور ہونا بھی چاہیئے کہ جہاں سے طاقت کے سر چشمے پھوٹتے ہوں تو ذمہ داری بھی انہی کی ہو ویسے بھی موجودہ حکومت کے پاس ایٹمی پاور کا کنٹرول کی بات تو درکنار تجارتی وفود سے بات کرنے کا اختیار تک تو ہے نہیں تو پھر کاہے کی اور کس کی گورنمنٹ؟ مزید برآں طاقت کے جی ایچ کیو پر تو انکل سام براجمان ہیں شاید اسی لیے لنچ پرتھوڑی بہت ہلہ شیری اور ڈانٹ ڈپٹ یا پھر شاباشی تاکہ قبلہ درست رہے غالبا یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے بچوں نے بھی اپنے ولد کی رہائی کی ابتدائی کوششوں کے لیے طاقت کے اصل ایوان کے سامنے اپنا پہلا پڑا ڈالا ہے برطانیہ میں مقیم موجود دنیا کے ساتویں امیر آدمی کے نواسے برطانوی پاکستانی اور نائی کوپ رکھتے ہیں مطلب دوہری شہریت اپنے ملک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں اثر رسوخ ہے جن کو ملنے کے لیے شفارش کروائی جاتی ہے لابی ایسٹ ہائیر کئے جاتے ہیں وہ خود بلا کر ان کوسن رہے ہیں عزت تو وہ اپنے خاندان ، والد یا پیسے کی وجہ سے پہلے ہی کما چکے ایک تو راہ راست پر ہونا ہی بذات خود سب سے بڑی عزت کا باعث ہوتا ہے اورجب پاکستان میں سب سے زیادہ عزت شہرت اور نیک نامی کمانے والے اپنے باپ کی رہائی کے لیے نکلیں گے تو مزید عزت بھی ملے گی چنانچہ پہلی سیڑھی پر قاسم خان اور سلیمان خان نے اپنے والد عمران خان کی رہائی کے لیے امریکہ سے تحریکی یا سیاسی مہم کا آغاز کر دیا ہے انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹریمپ کے نزدیکی مشیر رچرڈ گرینل کے ساتھ ساتھ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریبا دس سے زائد امریکی کانگریس کے عزت مآب ممبران سے ملاقات کی ان ملاقاتوں میں انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، بالخصوص اپنے والد عمران خان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کیا انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو میڈیا تک رسائی، طبی سہولیات، اور اپنے خاندان سے ملاقات جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here