کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں!!!

0
101
عامر بیگ

کھیل اور جنگ میں فرق ہونا چاہیئے یو اے ای میں ایشیا کرکٹ کپ ختم ہوا جس میں کھیل کے اصولوں کے منافی بہت سی حرکات ہوئیں جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں ہر کوئی اپنے تعیں اس میں حصہ ڈال رہا ہے سوشل میڈیا تو بھرا پڑا ہے کیونکہ وہاں کوئی روک ٹوک نہیں جو دل میں آئے کہہ ڈالو ایک عامی سے لیکر دنیا کا بڑے سے بڑا سمجھدار وہاں موجود ہے اور اپنی موجودگی شو کرتا ہے بھلے وہ خاموش رہ کر ہی کرے جی تو بات ہورہی تھی، ایشیا کرکٹ کپ میں کھیل کی سپرٹ کی پامالی کی پہلی بات کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سے انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان نے ٹاس جیتنے کے بعد ہاتھ نہیں ملایا گو کہ رولز میں نہیں لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا اور دوسری پاکستان کو اپنا روائیتی حریف نہ گننے والے انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان نے کوالیفائی راونڈ میں پاکستان کو ہرانے کے بعد جو بیان دیا اسے سب نے سنا جس میں اس نے نام نہ لیکر پاکستان پر الزام اور انڈین آرمی کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے تیسری اگلے رائونڈ میں پاکستان کو ہرانے کے بعد پاکستان کو کرکٹ میں اپنا روائتی حریف تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور نمبر گیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دس ایک یا آٹھ صفر کوئی حریف نہیں ہوتا غالبا وہ دوران میچ پاکستان کے فاسٹ بائولر حارث روف کے تماشائیوں کی طرف سے ان پر ہوٹنگ کے جواب میں ہاتھوں سے چھ صفر اور جہاز کے گرنے کے اشارے کو بیان کر گئے ہونگے، حارث روف کو جس پر جرمانہ بھی ہوا ہندوستان کرکٹ ٹیم کے کپتان نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ایسی باتیں کیں جو لازما فیڈ کی جاتی ہیں ہندوستان کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ادھر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ تو سیلاب کے علاوہ بھی ناکوں ناکوں ڈوب چکی ہے اس طرح کی حرکتوں سے جس کا ثبوت محسن نقوی کا سینیٹر ، وزیر داخلہ اور پتا نہیں کیا کچھ ہوجانے کے باوجود کرکٹ بورڈ کی چیئرمینی اور پھر ایشین کرکٹ کی سربراہی جس کی پشت پر اسٹبلشمنٹ کا پورا ہاتھ ہے شاہد آفریدی کیا کم تھا کہ اب حارث روف بھی اس کے نقش قدم پر چل نکلا صحبت کا اثر ہو نہ ہو محسن نقوی کی خوشنودی بھی تو کارکردگی میں ہی شامل گنی جائے گی چوتھی اب ایشیا کپ کے اختتام پر انڈین کرکٹ ٹیم نے وننگ ٹرافی لینے سے انکار کر دیا وجہ ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی جو کہ پاکستانی ہیں کے ہاتھ سے وہ ٹرافی وصول نہیں کریں گے یہ سب ہو کیا رہا ہے کھیل کے میدان کو کھیل کا میدان ہی رہنے دیں اسے جنگ کا میدان نہ بنائیں سپورٹس مین سپرٹ بھی کوئی چیز ہوتی ہے اوپر سے خطے میں نئے نئے اتحاد وجود میں آ رہے ہیں جس سے جنگ کے ساتھ ساتھ نفرت بڑھنے کے امکانات ہیں (جو ایک الگ کالم کا متقاضی ہے )صرف کرکٹ ہی ایک ایسا کھیل تھی جسے دونوں ملکوں کے عام عوام اینجوائے کرتے تھے لیکن اسے بھی جنگ کا میدان بنائیں گے تو تلخیاں مزید بڑھیں گی ایک وقت تھا جب ماضی میں پاکستانی آرمی چیف کرکٹ ڈپلومیسی کے طور پر انڈیا میچ دیکھنے کے بہانے ممکنہ جنگ رکوانے چلے گئے تھے اور ایک حالیہ آرمی چیف ہیں جو اپنے کارندوں کے مدد سے جیتی ہوئی جنگ کی بازگشت کو تھمنے نہیں دے رہے کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں تاکہ سب انجوائے کریں ۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here